گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اتفاق رائے قائم ہو گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان ہونے والے مشاورتی رابطوں کے بعد حکومت کی تشکیل کے خدوخال پر باقاعدہ سمجھوتہ طے پا گیا۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان گلگت بلتستان میں نئی حکومت کے قیام کے حوالے سے معاملات طے پا چکے ہیں اور اہم آئینی عہدوں کی تقسیم پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے، جبکہ وزارتِ اعلیٰ پیپلز پارٹی کے پاس ہوگی اور وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی پیپلز پارٹی کرے گی۔
سیاسی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں اور مسلسل رابطوں نے حکومت سازی کی راہ ہموار کی۔ مذاکرات میں مختلف انتظامی اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے بعد اتحاد کی صورت میں حکومت بنانے کا فیصلہ سامنے آیا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت اور ووٹوں کی مدد سے پیپلز پارٹی حکومت تشکیل دے گی۔ اس پیش رفت کو خطے کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والا یہ اشتراک گلگت بلتستان میں ایک مستحکم حکومت کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی بھی اس کے بعد مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔