پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے آئندہ بجٹ اجلاس کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض اراکین نے اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے لیے آج ایک اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں بجٹ سیشن میں شرکت یا بائیکاٹ سمیت مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔
سابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ کی تیاری کے دوران انہیں اور ان کے ہم خیال اراکین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تفصیلات سے بھی وہ مکمل طور پر آگاہ نہیں ہیں اور جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو جاتی، بجٹ کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔
مشتاق غنی کے مطابق کل ہونے والے اسمبلی اجلاس میں ان کے گروپ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 اراکین شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ بانی پی ٹی آئی کے وژن اور پالیسیوں کے مطابق ہوا تو اس پر مزید مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد بجٹ کے حق یا مخالفت میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب شانگلہ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ناراض رکن اسمبلی عبدالمنعم نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے مختلف اراکین کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ ان کے بقول ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور جلد تمام ناراض اراکین مشترکہ مشاورت کے بعد اپنی اجتماعی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق ناراض اراکین کا فیصلہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے عمل پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کے باعث ان کی آئندہ حکمت عملی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔