اسلام آباد: ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق متنازعہ بل پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ اس متنازعہ بل کے بعض نکات کو سب سے پہلے معروف صحافی روف کلاسرا نے نمایاں کیا، جس پر وہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق بل میں شامل بعض شقیں نہ صرف عوامی تشویش کا باعث بنی ہیں بلکہ ان سے شہریوں کے املاک کے حقوق سے متعلق بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں اور اس بل کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے شزا فاطمہ کو وزارت سے ہٹانے پر غور کیا جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بل کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ آیا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ایسی غیر معمولی اختیارات دیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے وہ عوامی یا نجی املاک تک رسائی حاصل کر سکیں۔
اس تمام معاملے میں ایک اہم سوال بدستور موجود ہے کہ جب یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوا تو ایوان کے 342 ارکان میں سے کسی ایک نے بھی اس کی متنازعہ شقوں پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بل میں واقعی ایسی دفعات شامل تھیں جن سے نجی ملکیت کے حقوق متاثر ہو سکتے تھے تو پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے اس پر بحث ہونی چاہیے تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اب تمام نظریں وزیراعظم شہباز شریف پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت عوامی اور سیاسی دباؤ کے پیش نظر اس معاملے کی تحقیقات کرتی ہے یا نہیں، اور کیا وفاقی وزیر شزا فاطمہ کے خلاف کوئی انتظامی یا سیاسی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ معاملہ آنے والے دنوں میں سیاسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس تنازعے کو مزید شدت سے اٹھاتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم شہباز شریف شزا فاطمہ کو وزارت سے ہٹائیں گے یا معاملہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گا؟