اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے آزاد جموں و کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تنظیم مہاجرین کی نشستوں کے مطالبے کو بنیاد بنا کر سیاسی دباؤ اور طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، تاہم حکومت کسی قسم کی “لشکرکشی” یا جتھا کلچر کو قبول نہیں کرے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ گزشتہ برس کالعدم ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 نکاتی مطالبات پیش کیے تھے اور حکومت نے ان مطالبات پر سنجیدگی سے کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی مطالبہ نہیں تھا جسے نظر انداز کیا گیا ہو، لیکن اس کے باوجود کمیٹی نے احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کو فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے 10 ارب روپے کی مالی معاونت کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے حکومت نے پورا کیا۔ رانا ثنااللہ کے مطابق پورے ملک میں بجلی کی قیمتیں عوام کے سامنے ہیں، لیکن آزاد کشمیر کے عوام کو آج بھی تقریباً ساڑھے تین روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جو حکومتی سبسڈی کا واضح ثبوت ہے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نہ صرف بجلی بلکہ گندم کی فراہمی پر بھی آزاد کشمیر کو خصوصی سبسڈی فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کو ترجیح دی، مگر بعض عناصر نے تصادم کی راہ اختیار کی۔
رانا ثنااللہ نے مہاجرین کشمیر کی نمائندگی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایکشن کمیٹی کے پاس کوئی آئینی یا سیاسی تجاویز موجود ہیں تو وہ انہیں آزاد کشمیر حکومت کے سامنے پیش کرے، تاہم اسمبلی میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو ووٹ کے حق اور سیاسی نمائندگی سے محروم کرنا دراصل تحریک آزادی کشمیر کے بنیادی مقصد سے انحراف کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں کشمیری مہاجرین نے پاکستان میں رہتے ہوئے کشمیر کاز کو زندہ رکھا اور ان کے سیاسی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ حکومت نے مسئلے کے حل کے لیے ایکشن کمیٹی کو متعدد آئینی اور سیاسی آپشنز پیش کیے، لیکن کمیٹی نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تنظیم نے جمہوری اور قانونی راستے اپنانے کے بجائے جتھا کلچر اور دباؤ کی سیاست کو ترجیح دی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کسی گروہ کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے یا طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ سیاسی اور آئینی فورمز پر حل ہونا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے کے ذریعے۔
قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ حکومت آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق، مہاجرین کی نمائندگی اور تحریک آزادی کشمیر کے اصولی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور تمام معاملات قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر حل کیے جائیں گے۔