لاہور: پنجاب اسمبلی میں پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے خلاف شکایات کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے 371 رکنی ایوان میں سے 70 ارکان نے پولیس اور سی سی ڈی کے خلاف تحریکِ استحقاق جمع کرا دی ہے، جن میں صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومتی جماعت کے ارکان بھی شامل ہیں۔
جمع کرائی گئی تحاریک میں پولیس کے رویے، اختیارات کے استعمال اور مختلف نوعیت کی شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان تحاریک میں چکوال کی ہانیہ اور جھنگ کی ایشال فاطمہ کے کیسز سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، جن پر ارکان اسمبلی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے ایوان میں 70 تحریکِ استحقاق کا پلندہ لہراتے ہوئے کہا کہ موصول ہونے والی شکایات کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام تحاریک کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سی تحاریک مزید کارروائی کے لیے پولیس سربراہ کو بھجوائی جائیں گی۔
اس موقع پر اپوزیشن رکن رانا آفتاب نے کہا کہ اپوزیشن کی شکایات کو نظر انداز کرنا الگ بات ہے، تاہم حکومت کے اپنے ارکان بھی پولیس کے رویے سے نالاں ہیں، اس لیے ان کی داد رسی اور شکایات پر فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق 70 ارکان کی جانب سے تحریکِ استحقاق جمع کرانا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ ایوان کی مجموعی تعداد کا تقریباً 19 فیصد بنتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کے طرزِ عمل اور بعض معاملات میں کارروائی کے حوالے سے منتخب نمائندوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے پانچویں روز بجٹ تجاویز اور مالیاتی امور پر بحث کے بجائے ایوان کی توجہ بڑی حد تک پولیس کے خلاف سامنے آنے والی شکایات پر مرکوز رہی، جس کے باعث یہ معاملہ اجلاس کا مرکزی موضوع بن گیا۔