اگر آئین کے مطابق پارلیمنٹ کا حق نہ دلوا سکا تو دو منٹ میں کرسی چھوڑ دوں گا، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان”یونیفارم کے غلط استعمال، سیاسی مداخلت اور پارلیمانی بالادستی پر بڑا انتباہ، حکومتی ایوانوں کو کھری کھری سنا دیں”
لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پارلیمانی بالادستی، آئینی حدود اور ریاستی اداروں کے کردار پر انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ پارلیمنٹ کو آئین کے مطابق اس کا جائز حق دلوانے میں ناکام رہے تو صرف دو منٹ میں اپنی نشست چھوڑ دیں گے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ان کے سامنے اس وقت سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ پارلیمانی نگرانی (پارلیمنٹری اوور سائٹ)، سیاسی مداخلت اور یونیفارم کے غلط استعمال کا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارلیمانی بالادستی کے وکیل ہیں اور ہر صورت آئین کی منشا کے مطابق پارلیمنٹ کے اختیارات کا تحفظ کریں گے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں کہا، “میرے الفاظ لکھ لیں، اگر مجھے لگا کہ میں آئین کی منشا کے مطابق پارلیمنٹ کو اس کا حق نہیں دلوا سکا تو میں دو منٹ بھی نہیں لگاؤں گا، اپنی سیٹ چھوڑ دوں گا۔”
انہوں نے زور دیا کہ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ ہی عوام کی اصل نمائندہ قوت ہے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری سیاسی مداخلت یا اختیارات سے تجاوز قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ان کے اس بیان کو ملکی سیاست اور حکومتی حلقوں کے لیے ایک بڑا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔