چوہنگ پولیس ٹریننگ سینٹر میں سی سی ڈی افسران کا تربیتی سیشن

چوہنگ پولیس ٹریننگ سینٹر میں سی سی ڈی افسران کا تربیتی سیشن، ایس او پیز، انسانی حقوق اور پیشہ ورانہ مہارت پر خصوصی زور

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے کہ چکوال واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے گی

لاہور: پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ میں پنجاب بھر کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے افسران اور اہلکاروں کے لیے سات گھنٹے پر مشتمل خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور تربیتی سیشن سے خطاب کیا۔ ڈی آئی جیز وقاص الحسن سمیت دیگر سینئر افسران اور پنجاب بھر سے سی سی ڈی افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

تربیتی سیشن کا آغاز چکوال واقعے میں شہید ہونے والی ہانیہ اور دیگر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا، جس کے بعد افسران اور اہلکاروں کو پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل طریقہ کار، ایس او پیز اور انسانی حقوق سے متعلق تفصیلی تربیت دی گئی۔

اپنے خطاب میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سی سی ڈی کی انتھک محنت کے باعث پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ڈی کے افسران اور جوانوں نے دلیری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو قاتلوں، ڈاکوؤں اور اغوا کاروں کے خوف سے نجات دلائی، جس کے باعث عوام کا اعتماد اس ادارے پر مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت نے سی سی ڈی کے ہر افسر اور جوان پر بھاری ذمہ داری عائد کر دی ہے اور ہر اہلکار ادارے کی عزت کا محافظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ اختیارات کے ساتھ زیادہ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں، اس لیے تمام افسران ہر قیمت پر ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور کسی بھی اہلکار کو تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سہیل ظفر چٹھہ نے انسانی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزم کو صاف پانی، مناسب خوراک اور ادویات کی فراہمی پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ کسی بھی ملزم کو تھانے کے علاوہ کسی نجی مقام پر رکھنا سنگین جرم ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ڈالہ کلچر کے خاتمے کا کریڈٹ سی سی ڈی کو جاتا ہے، جبکہ ادارے کے اندر خود احتسابی کا مؤثر نظام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ڈی میں کرپشن ناقابلِ معافی جرم ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے چکوال واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد سی سی ڈی کی کارکردگی پر سوالات اٹھے اور ایک افسر کی غلطی کا خمیازہ پورے محکمے کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ٹارگٹ کی درست اور واضح نشاندہی کے بغیر گولی چلانا ہرگز درست عمل نہیں۔

سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ چکوال واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ نہ صرف انصاف ہو بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور جوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ پیشہ ورانہ معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تربیتی سیشن کے اختتام پر افسران کو قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ہر صورت مقدم رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

Related posts

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا الرٹ، پی ڈی ایم اے نے 6 جولائی تک ہائی الرٹ جاری کر دیا

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اہم ملاقات کی

ستھرا پنجاب پروگرام کے ورکرز اعلان کردہ دس ہزار روپے کے اعزازیے اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج