آزاد کشمیر کے انتخابات پر پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات کا فیصلہ کسی ریاستی ادارے نے نہیں بلکہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے کیا، اس لیے پیپلزپارٹی کو کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے۔
آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے جس قسم کی زبان استعمال کی وہ افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی فیصلے کا احترام کریں اور شکست کی صورت میں بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بجائے خود احتسابی کریں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوام نے پیپلزپارٹی کے حق میں فیصلہ دیا تھا تو مسلم لیگ (ن) نے اس فیصلے کو تسلیم کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کے وقت انتخابات شفاف تھے تو پھر آزاد کشمیر میں شکست کے بعد انہیں متنازع کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی ناکامی کی بنیادی وجہ اس کی کارکردگی ہے۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں آزاد کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہو سکے جبکہ انتخابی مہم کے دوران بھی پارٹی عوام کو اپنی کارکردگی یا مستقبل کا واضح منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی۔
مریم نواز نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی 17 سالہ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نہ تو سندھ حکومت کی نمایاں کارکردگی بیان کر سکے اور نہ ہی آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے کوئی قابل عمل روڈ میپ پیش کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہ ہوں تو انتخابی شکست کے بعد دھاندلی کا الزام لگانا مسئلے کا حل نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام صحت، تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات چاہتے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو الزام تراشی کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ سندھ میں صفائی، امن و امان، سڑکوں اور دیگر شہری سہولیات کی بہتری پر توجہ دے تاکہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پیپلزپارٹی اپنی انتخابی مہم اور عوامی رابطے کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے تو اسے خود اندازہ ہو جائے گا کہ ووٹرز نے اسے کیوں مسترد کیا۔ مریم نواز کا دعویٰ تھا کہ پیپلزپارٹی کے انتخابی جلسوں میں عوامی شرکت بھی توقعات سے کم رہی، جو عوامی رجحان کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں عوام کے فیصلے کو تسلیم کریں اور اپنی سیاسی حکمت عملی اور کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیں۔