اسلام آباد: پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تقریباً 16 ہزار افغان خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کے ملک میں قیام میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ قانونی ویزا یا سفری دستاویزات رکھنے والے کسی بھی افغان شہری کو پاکستان سے بے دخل نہیں کیا گیا۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں اور انسانی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان شہریوں سے متعلق پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغان ری لوکیشن پروگرام (IFRP) کے تحت تقریباً 89 ہزار افغان شہریوں کے کیسز مختلف مراحل میں زیرِ کارروائی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت نے خصوصی طور پر خواتین، بچوں اور معمر افغان شہریوں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 16 ہزار افراد کے قیام میں انسانی بنیادوں پر توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں فوری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
طاہر اندرابی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو بے دخل کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن افغان شہریوں کے پاس قانونی ویزا یا دیگر درست سفری دستاویزات موجود ہیں، انہیں ملک بدر نہیں کیا گیا اور پاکستان اپنی امیگریشن پالیسی کے مطابق قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کے حقوق کا احترام کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے چترال کے قریب سرحدی علاقے میں پیش آنے والے مبینہ واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ابھی تک پاکستان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کی زمینی سطح پر تصدیق ضروری ہے، اس لیے غیر مصدقہ رپورٹس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ذمہ دارانہ سفارتی طرزِ عمل کا حامی ہے اور سرحدی معاملات سے متعلق کسی بھی اطلاع پر مؤقف اختیار کرنے سے قبل مستند معلومات اور حقائق کی تصدیق کو ترجیح دیتا ہے