خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا

ملک بھر میں خواتین کے کپڑوں کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ قومی اسمبلی تک پہنچ گیا۔

ایوان کے  اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران  رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے معاملہ اٹھا دیا۔

شگفتہ جمانی نے کہا کہ برینڈز کا نام دے کر لوکل ٹیکسٹائل نے اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جو لیڈیز سوٹ 7 سے  8 ہزار  روپے میں ملتا تھا اب اس کی قیمت 20 ہزار ہے، ان پر چیک اینڈ بیلنس کون رکھے گا؟

شگفتہ جمانی کا کہنا تھا کہ جو گھر سے اٹھتا ہے وہ ٹیکسٹائل کا بزنس شروع کر دیتا ہے اور اپنا نام رکھ لیتا ہے۔ 

اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری  تجارت ذوالفقار علی بھٹی نے کہا کہ  لوکل مارکیٹ اور ریٹیل مارکیٹ پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے،  لوکل مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Related posts

پنجاب حکومت 16 جون کو تیسرا بجٹ پیش کرے گی، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا: مجتبیٰ شجاع الرحمن

قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس مؤخر، ترقیاتی بجٹ کی منظوری میں تاخیر کا امکان

گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیا، ہمارے علاوہ کسی جماعت نے یہاں ترقیاتی کام نہیں کیے، نواز شریف