بھارت کا پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اور اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم

نئی دہلی: بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اور اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا جس کے بعد پاکستان نے بھی جوابی اقدام پر غور شروع کردیا۔

بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار  دے کر 24 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اہلکار پر سفارتی عہدے سے متصادم سرگرمیوں کا الزام ہے، پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے ڈی مارش بھی دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے جوابی اقدمات پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سفارت کارکو بھی ناپسندیدہ شخصیت قراردیا جائےگا اور 24 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا جائےگا۔

ذرائع کے مطابق جلد بھارتی ناظم الالمورگیتکا سرواستووکو دفترخارجہ طلب کرکے ڈی مارش بھی حوالے کیا جائےگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ  پاکستانی ناظم الامور کو اس حوالے سے ڈی مارش کیا گیا تھا۔

Related posts

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار