عثمان خواجہ کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، نسلی امتیاز پر بھی کھل کر بات

سڈنی: آسٹریلیا کے سینئر ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سابق آسٹریلوی کرکٹرز اور میڈیا کے رویّے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور نسلی امتیاز کے احساس کا ذکر بھی کیا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے اعلان کے موقع پر عثمان خواجہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ خود کو آسٹریلوی ٹیم کے اندر مختلف محسوس کیا، اور یہ احساس آج تک برقرار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ان کے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے تھا۔

عثمان خواجہ نے کہا کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور یہ ٹیم ان کے لیے باعثِ فخر رہی ہے، تاہم کئی مواقع پر انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ دوسروں سے مختلف سلوک کیا گیا۔ ان کے بقول بعض لوگ ان سے الگ انداز میں پیش آتے رہے، جو ان کے لیے تکلیف دہ تھا۔

انہوں نے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کے رویّے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کمر میں کھنچاؤ کا مسئلہ درپیش تھا، جو ان کے قابو میں نہیں تھا، مگر اس کے باوجود جس طرح میڈیا اور ماضی کے کھلاڑیوں نے ان پر لفظی حملے کیے، وہ ناقابلِ برداشت تھا۔ عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ دو دن تک تو یہ دباؤ برداشت کر سکتے تھے، لیکن تقریباً پانچ دن تک اس کا سامنا کرنا ان کے لیے بہت مشکل ہو گیا۔

واضح رہے کہ 39 سالہ عثمان خواجہ سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلیں گے، جس کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ عثمان خواجہ آسٹریلیا کے پہلے پاکستان میں پیدا ہونے والے اور پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر ہیں، جنہوں نے اپنے کیریئر میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ اور ان کے بیانات نے آسٹریلوی کرکٹ میں تنوع، شمولیت اور رویّوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Related posts

تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ پھر ناکام، انگلینڈ کے خلاف 133 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع، موبائل ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کو روایتی شیڈول سے پہلے جنوری میں منعقد کرانے کی تجویز