پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ نظام ازسرِنو ترتیب، کارکردگی کو مرکزی حیثیت دے دی گئی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں اہم اور وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق کھلاڑیوں کی درجہ بندی اور ان کی کارکردگی کو زیادہ مؤثر انداز میں جانچنا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نئے نظام کے تحت سینٹرل کنٹریکٹس کو مختلف ٹریکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹریک اے میں ریڈ بال (ٹیسٹ) کرکٹ کے ماہر کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ ٹریک بی میں ایسے کرکٹرز کو رکھا جائے گا جو ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی طرح ٹریک سی میں بنیادی طور پر وائٹ بال، خصوصاً ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ ٹریک ڈی ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹرز، اکیڈمی پلیئرز اور ترقیاتی پروگرام کا حصہ بننے والے کھلاڑیوں کے لیے مختص ہوگا۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے نئی پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے تمام شعبوں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیٹا اینالیسز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے کنٹریکٹ سسٹم میں کھلاڑیوں کی 85 فیصد مالی مراعات اور درجہ بندی ان کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری اور بہتر نتائج کا حصول بورڈ، انتظامیہ اور کھلاڑیوں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق دوطرفہ سیریز میں قومی ٹیم کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی ہے، تاہم بڑے عالمی ایونٹس میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے، جس پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔

محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی صرف میدان میں کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ فٹنس، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ رویے بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نے فٹنس کے معیار کو مزید شفاف بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ فٹنس ٹیسٹ میڈیا کی موجودگی میں ہوں تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے لیے بھی واضح اور جامع پالیسی مرتب کی گئی ہے، جبکہ تمام کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ نہیں لے گا تو اس کے اثرات اس کے کیریئر اور کنٹریکٹ کی حیثیت پر بھی مرتب ہوں گے۔

محسن نقوی نے بتایا کہ نئے کنٹریکٹ ماڈل کی تیاری کے دوران ہر نکتے کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی ہے اور کھلاڑیوں کو مکمل بریفنگ فراہم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے بعد کنٹریکٹ کی درجہ بندی سے متعلق غیر ضروری ابہام اور شکایات کا خاتمہ ہو جائے گا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ نئے ڈھانچے میں کرکٹ کے ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو تسلیم کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو ان کی مہارت اور کردار کے مطابق مواقع اور مراعات فراہم کی جا سکیں۔ بورڈ کے مطابق یہ ماڈل بین الاقوامی کرکٹ میں تیزی سے بدلتے رجحانات اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

Related posts

فیفا ورلڈ کپ 2026: مراکش نے برازیل کو ڈرا پر روک دیا، قطر اور سوئٹزرلینڈ بھی برابر، اسکاٹ لینڈ کی فتح

ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ ٹیم کو دھچکا، کھلاڑیوں کا سامان چوری ہونے کا انکشاف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان وسیم اکرم نے سابق قومی کپتان مصباح الحق اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فریضۂ حج ادا کیا