ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے 107 گیندوں پر 9 چوکے

ٹروبا: ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے 107 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 58 رنز تو بنائے، تاہم ان کی بیٹنگ حکمت عملی اور اسٹرائیک روٹیشن نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو فتح کے لیے 211 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے شان مسعود انگلی میں انجری کے باعث اوپننگ نہ کر سکے، جس کے باعث بابر اعظم تیسرے اوور میں ہی بیٹنگ کے لیے کریز پر آ گئے۔

پاکستان کی بیٹنگ ابتدا ہی میں مشکلات کا شکار ہو گئی۔ امام الحق، اذان اویس اور سلمان علی آغا صرف 25 رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ اس موقع پر بابر اعظم اور محمد رضوان نے چوتھی وکٹ کے لیے 19 رنز جوڑے، تاہم اس شراکت میں بھی بابر اعظم نے 21 گیندوں پر صرف 9 جبکہ محمد رضوان نے 28 گیندوں پر 11 رنز بنائے۔

46 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ سینئر بیٹر اور کپتان ہونے کے ناطے بابر اعظم زیادہ سے زیادہ اسٹرائیک اپنے پاس رکھیں گے، لیکن میچ کے دوران کئی مواقع پر وہ سنگل لے کر نان اسٹرائیکر اینڈ پر چلے گئے، جبکہ دوسرے اینڈ سے پاکستان کی وکٹیں مسلسل گرتی رہیں۔

آل راؤنڈر عامر جمال اور ڈیبیو کرنے والے علی عثمان کے ساتھ بھی بابر اعظم کی شراکت داری میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ان شراکتوں کے دوران بابر اعظم نے 11 جبکہ دوسرے بلے بازوں نے مجموعی طور پر 23 گیندوں کا سامنا کیا، جس پر ناقدین نے سوال اٹھائے کہ کیا کپتان کو زیادہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر نہیں لینی چاہیے تھی۔

بعد ازاں زخمی انگلی کے باوجود شان مسعود آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے، تاہم ان کے ساتھ 30 گیندوں کی شراکت میں بھی دونوں بلے بازوں نے برابر 15،15 گیندیں کھیلیں، جسے بھی مبصرین نے غیر معمولی قرار دیا۔

تنقید کا ایک اور پہلو اس وقت سامنے آیا جب نویں نمبر پر آنے والے خرم شہزاد اور دسویں نمبر کے بلے باز محمد علی نے ویسٹ انڈین بولرز کا مجموعی طور پر 12 گیندوں تک سامنا کیا، جبکہ اس دوران بابر اعظم نے صرف دو گیندیں کھیلیں۔

اگرچہ بابر اعظم نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور ناقابل شکست نصف سنچری اسکور کی، لیکن ان کی بیٹنگ کی رفتار اور اسٹرائیک برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم 28.2 اوورز میں 71 رنز پر 9 وکٹیں گنوا چکی تھی اور شکست تقریباً یقینی دکھائی دے رہی تھی۔

آخری وکٹ پر بابر اعظم اور محمد عباس نے 12 اوورز میں 49 رنز کی شراکت قائم کی۔ اس شراکت میں محمد عباس نے 33 گیندوں پر 23 جبکہ بابر اعظم نے 41 گیندوں پر 21 رنز بنائے، تاہم یہ مزاحمت بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔

بابر اعظم کی ناقابل شکست 58 رنز کی اننگز کے باوجود ان کی حکمت عملی، اسٹرائیک مینجمنٹ اور دباؤ کے لمحات میں بیٹنگ کے انداز پر سابق کرکٹرز، تجزیہ کاروں اور شائقین کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کے باعث ٹروبا ٹیسٹ کی یہ اننگز ایک نئی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

Related posts

ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹروبا ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے 107 گیندوں پر 9 چوکے

اسپین کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹیم کے نمایاں کھلاڑی Marc Cucurella ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے

فیفا ورلڈ کپ فائنل: گولڈن بوٹ کی دلچسپ جنگ، کیا لیونل میسی ایمباپے کو پیچھے چھوڑ سکیں گے؟