چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کا ٹاس کرنے کی کیا ضرورت، بھارتی کپتان سے پوچھ لیں کیا کرنا ہے؟ برطانوی اخبار بھی چپ نہ رہا

کراچی: اپنے مالی فوائد کیلئے بھارت کی ہاں میں ملانے اور اسے انٹرنیشنل کرکٹ کا بادشاہ بنانے والے بورڈز کو ہی اب بھارت کی من مانیاں بری لگنے لگیں۔

 موجودہ اور سابق کرکٹرز  پیٹ کمنز، اسٹیو اسمتھ، مائیکل ایتھرٹن، ناصر حسین، جوناتھن ایگنیو اور دیگر کے بعد اب برطانوی میڈیا بھی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ملنے والے ایک کے بعد دوسرے فوائد بھی بول پڑا۔ 

ٹورنامنٹ کے دوران ٹیموں کو دو ملکوں کے درمیان ہزاروں کلومیٹر سفر کرنا پڑا لیکن بھارتی ٹیم کو اس کی زحمت بھی نہیں دی گئی، اس نے تمام میچز دبئی میں کھیلے یعنی اس نے عملاً صفر کلومیٹر فاصلہ طے کیا جبکہ نیوزی لینڈ نے سب سے زیادہ یعنی 7048 کلومیٹر سفر کیا۔ کیوی کپتا ن مچل سینٹنر نے بھی کہا ہے کہ بھارت کو ایڈوانٹیج حاصل ہے۔ 

برطانوی اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘ نے بھی بھارت کو ایک ہی گراؤنڈ کا ایڈوانٹیج دینے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کا ٹاس کرنے کی کیا ضرورت ہے، بھارتی کپتان سے پوچھ لیا جائے کہ انہیں بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ۔

Related posts

تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ پھر ناکام، انگلینڈ کے خلاف 133 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع، موبائل ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کو روایتی شیڈول سے پہلے جنوری میں منعقد کرانے کی تجویز