نئی دہلی: بھارتی جریدے دی وائر نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی، بزنس مین گوتم اڈانی اور مکیش امبانی کے درمیان ایک مضبوط کرپشن گٹھ جوڑ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریباً تمام شعبے — معاشی، سماجی، مذہبی، عدالتی، انتخابی، ادارہ جاتی اور ماحولیاتی — کرپشن کی لپیٹ میں ہیں۔
رپورٹ کی اہم نکات
• بھارت میں نفرت، مذہبی تعصب اور تقسیم حکومت کی سرپرستی میں عام ہوچکے ہیں۔
• بھارتی میڈیا مکمل طور پر سرکاری دباؤ کے تحت ہے اور کرپشن پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
• سرکاری ادارے، قومی اثاثے اور زمینیں اونے پونے نجی گروپوں کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
معاشی فوائد اور روسی تیل کی خریداری
رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی تیل کی خریداری سے فائدہ عوام کو نہیں بلکہ امبانی اور اڈانی جیسے بڑے سرمایہ داروں کو پہنچا۔
امریکی اخبارات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزارت خزانہ نے ایل آئی سی کو تقریباً 4 ارب ڈالر اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری پر مجبور کیا۔
اقتصادی اور سماجی اثرات
• امبانی اور اڈانی کی دولت 2014 کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
• بھارت میں ہنگر انڈیکس 55 سے بڑھ کر 102 ہو گیا، جو ملک میں غذائی بحران اور سماجی عدم مساوات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
رپورٹ کا نتیجہ
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرپشن، نجی سرمایہ داری اور سرکاری سرپرستی کے درمیان گٹھ جوڑ ملک کی عوام کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، اور اس نے ملکی اداروں کی شفافیت اور عوامی بھروسے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔