اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2025-26 کے دوران محصولات کے ہدف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک کے پہلے گیارہ ماہ میں محصولات کی وصولیوں میں کمی بڑھ کر 868 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران 12,095 ارب روپے کے نظرِثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 11,227 ارب روپے محصولات جمع کیے، جس کے نتیجے میں 868 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق محصولات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں خلیجی خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیوں میں سست روی، درآمدات اور کاروباری لین دین میں کمی، جبکہ عیدالاضحیٰ کی طویل تعطیلات بھی شامل ہیں، جنہوں نے ٹیکس وصولیوں کی رفتار کو متاثر کیا۔
مئی 2026 کے اعداد و شمار بھی ایف بی آر کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکے۔ مئی کے دوران ادارے نے عارضی طور پر 966 ارب روپے محصولات جمع کیے، جبکہ اس مہینے کے لیے مقررہ ہدف 1,150 ارب روپے تھا۔ یوں صرف مئی میں ہی محصولات کا خسارہ 184 ارب روپے تک جا پہنچا۔
ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ مئی کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے کے بعد کچھ اضافی وصولیاں شامل ہونے سے مجموعی محصولات میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں بڑے فرق کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
ادارے کو اب مالی سال کے آخری مہینے جون 2026 میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ نظرِثانی شدہ سالانہ ہدف 13,979 ارب روپے حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو صرف ایک ماہ میں 2,752 ارب روپے جمع کرنا ہوں گے، جو ملکی ٹیکس تاریخ کے تناظر میں ایک انتہائی بڑا اور مشکل ہدف سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ایف بی آر کے لیے 14,130 ارب روپے کا سالانہ ہدف منظور کیا تھا، تاہم بعد ازاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت کے بعد اس ہدف کو کم کرکے 13,979 ارب روپے مقرر کیا گیا۔ اس کے باوجود موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے ادارہ تقریباً ایک ٹریلین روپے کی مجموعی کمی کا سامنا کر سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جون کے اختتام تک ایف بی آر محصولات کی مجموعی وصولیوں کو 13,000 ارب روپے کی سطح تک لے جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں ایک قابلِ ذکر کامیابی تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایف بی آر کے اعلیٰ حکام پرامید ہیں کہ مالی سال کے اختتام تک ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور مجموعی محصولات 13 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے جون میں غیر معمولی رفتار سے محصولات جمع کرنا ناگزیر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق محصولات کے ہدف میں مسلسل کمی حکومت کے لیے آئندہ بجٹ، مالیاتی خسارے اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، جس کے باعث آئندہ مالی سال میں مزید ٹیکس اصلاحات اور محصولات بڑھانے کے اقدامات متوقع ہیں۔