لاہور ہائیکورٹ: نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں اور دیگر عوامی سہولیات کی اراضی کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی
جسٹس راحیل کامران شیخ کا 23 صفحات پر مشتمل فیصلہ، ایل ڈی اے کو اسکول کی اراضی تین ماہ میں قانون کے مطابق الاٹ، لیز یا نیلام کرنے کا حکم
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں، پارکوں، مساجد اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص اراضی کو کمرشل یا کسی اور غیر متعلقہ مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ایگریکس کی درخواست پر 23 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ اسکول کے لیے مختص اراضی کو تین ماہ کے اندر قانون کے مطابق الاٹ، لیز یا نیلام کیا جائے، تاہم یہ اراضی صرف اسکول کے قیام اور عوامی مقصد کے لیے ہی استعمال ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سہولتی اراضی عوامی امانت ہے اور ایل ڈی اے اسے اپنی صوابدید پر کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں ایل ڈی اے سہولتی اراضی کو اس کے اصل مقصد کے خلاف استعمال کرے تو اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار سوسائٹی کا مؤقف تھا کہ ایل ڈی اے اسکول کا نقشہ منظور نہ کرکے سہولتی اراضی اپنے نام منتقل کرانا چاہتا ہے، جبکہ 1987 میں ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری کے وقت ایسی اراضی ایل ڈی اے کے نام منتقل کرنے کی کوئی قانونی شرط موجود نہیں تھی۔ درخواست میں ایل ڈی اے ایکٹ کی دفعہ 13(6) اور متعلقہ قوانین کو بھی غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
دوسری جانب ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ سوسائٹی نے خود مارگیج ڈیڈ کو ٹرانسفر ڈیڈ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی منصوبہ بندی اور ترقی سے متعلق ایل ڈی اے قوانین کی پابند ہیں اور ان کی رجسٹریشن انہیں ایل ڈی اے قوانین سے استثنا نہیں دیتی۔
عدالت نے ریکارڈ کی بنیاد پر قرار دیا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری کے لیے سہولتی اراضی ایل ڈی اے کو منتقل کرنا قانونی تقاضا تھا اور ایل ڈی اے بطور ریگولیٹر منظوری کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اختیار رکھتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے ایکٹ کی دفعہ 13(6) اور پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2014 کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔ تاہم عدالت نے آبزرویشن دی کہ 30 برس گزرنے کے باوجود اسکول کی سہولت فراہم نہ ہونا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔