عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ: اسرائیل غزہ میں امدادی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا

ہیگ: عالمی عدالت انصاف نے اپنے تازہ فیصلے میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی کا پابند ہے اور وہ بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اسرائیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم انروا (UNRWA) کے زیادہ تر ارکان کا تعلق حماس سے ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اسرائیل پر غزہ میں انروا اور دیگر اداروں کی امدادی کوششوں کی حمایت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاکہ فلسطینی شہریوں کی بنیادی ضروریات اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عالمی عدالت انصاف نے زور دیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے عدالت کے فیصلے کو “شرمناک” قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے مؤقف کو نظرانداز کرتا ہے۔

Related posts

آبنائے ہرمز پر نئی بحث، عمان نے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا عندیہ دے دیا

ٹرمپ نے ایران کو خبردار کردیا، جہاز پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دے دیا

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے، ہلاکتیں 589 تک پہنچ گئیں، آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری