روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چین کے اہم سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک اور اعلیٰ سطحی استقبال کیا گیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایئرپورٹ پر روسی صدر کا استقبال کیا جبکہ چینی افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر نوجوانوں نے روسی اور چینی پرچم لہرا کر مہمان صدر کو خوش آمدید کہا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف چار روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا تھا۔ چینی اور عالمی میڈیا اب دونوں رہنماؤں کے استقبال اور پروٹوکول کا تقابلی جائزہ لے رہے ہیں، جسے عالمی سفارت کاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق صدر پیوٹن کا یہ چین کا 25واں دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ روسی صدر اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں رہیں گے، جہاں روایتی طور پر غیر ملکی سربراہانِ مملکت کی میزبانی کی جاتی ہے۔
سرکاری شیڈول کے مطابق بدھ کی صبح تیانانمن اسکوائر میں روسی صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوگی، جس کے بعد ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی۔ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، توانائی، تجارت، دفاعی تعاون اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
چینی ذرائع ابلاغ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا استقبال چینی نائب صدر ہان ژینگ نے کیا تھا جبکہ وہ امریکی سفارت خانے کے قریب ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم رہے۔ اس کے برعکس روسی صدر کو روایتی سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرانا اور اعلیٰ سطحی پروٹوکول دینا چین اور روس کے قریبی تعلقات کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے دورے کا اختتام ژونگ نان ہائی میں چائے اور ورکنگ لنچ پر ہوا تھا۔ ژونگ نان ہائی چینی قیادت کا انتہائی حساس اور محدود رسائی والا کمپاؤنڈ سمجھا جاتا ہے جہاں بہت کم غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ٹرمپ کو وہاں مدعو کرنا اعتماد سازی کی کوشش تھی۔
چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں علامتی سفارتی اقدامات کی ضرورت کم رہ گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی گہرا اعتماد موجود ہے۔ اسی لیے صدر پیوٹن کے لیے روایتی اور باوقار ریاستی پروٹوکول کو دونوں ممالک کی مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ چین اور روس کے درمیان “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر بھی ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی معاہدہ دونوں ممالک کے موجودہ قریبی تعلقات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد دفاع، معیشت، توانائی اور عالمی سفارت کاری میں دونوں ممالک مسلسل ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین جنگ، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بدلتی عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں روس اور چین کی بڑھتی قربت مستقبل کی عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے