ایران نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو انتہائی مثبت اور اہم سفارتی پیش رفت قرار دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران اہم سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران حاصل ہونے والی سفارتی پیش رفت کے اثرات جلد نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے بھی پاکستانی وفد اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کو خوشگوار اور مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے ہونے والی ملاقاتیں انتہائی مثبت ماحول میں ہوئیں اور مختلف اہم علاقائی و باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع، مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ممکنہ اقدامات اور علاقائی امن و استحکام کے لیے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی قیادت نے مذاکرات کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے اور ایران، امریکا کشیدگی کے باعث خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے متعدد خدشات موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے دورے کو انتہائی مثبت قرار دینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھنے اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
ایرانی صدر کے دفتر کے بیان کے مطابق دورے کے دوران حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیوں کے نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو مزید اہمیت مل سکتی ہے۔