وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی دستاویز کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران بیرونِ ملک سفر کرنے کے خواہشمند مجموعی طور پر 74 ہزار 474 افراد کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر ملک سے روانگی سے روک دیا گیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 39 ہزار 786 افراد کو ایف آئی اے نے مختلف بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیا، جبکہ 34 ہزار 688 افراد کو دیگر متعلقہ اداروں اور ایجنسیز نے سفر سے روکا۔
اعداد و شمار کے مطابق مختلف ایئرلائنز نے اپنے قواعد و ضوابط کے تحت 30 ہزار 21 مسافروں کو آف لوڈ کیا، جبکہ 3 ہزار 617 افراد مختلف ذاتی یا سفری وجوہات کی بنا پر خود ہی سفر سے دستبردار ہوگئے۔ اسی طرح 40 افراد کو کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) یا ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) نے روکا۔
دستاویز کے مطابق آف لوڈ کیے جانے کی سب سے بڑی وجہ ضروری سفری دستاویزات کی عدم دستیابی رہی، جس کے باعث 20 ہزار 408 افراد بیرونِ ملک سفر نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ 12 ہزار 673 افراد کو کم پروفائل، مشکوک سفری منصوبہ یا غیر تسلی بخش سفری مقاصد کی بنیاد پر روکا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 3 ہزار 450 افراد کو اسٹاپ لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے آف لوڈ کیا گیا، جبکہ 505 افراد کو غلط سفری روٹ اختیار کرنے پر سفر کی اجازت نہ مل سکی۔
ایف آئی اے کے مطابق 281 افراد جعلی یا مشتبہ سفری دستاویزات کے استعمال پر آف لوڈ کیے گئے، جبکہ 176 افراد کو غیر اطمینان بخش ٹریول ہسٹری کی بنیاد پر روکا گیا۔
دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 145 افراد کو سفری دستاویزات کی مزید تصدیق کے لیے آف لوڈ کیا گیا، 258 افراد کم عمری کے باعث سفر سے روکے گئے، جبکہ 24 افراد کو وزٹ ویزے پر بیرونِ ملک ملازمت کی غرض سے جانے کی کوشش کرنے پر آف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ آف لوڈنگ کا مقصد غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات کے استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے، تاکہ صرف قانونی تقاضے پورے کرنے والے مسافروں کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دی جا سکے۔