راولاکوٹ: حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد مظفرآباد کی جانب اعلان کردہ مارچ کو عارضی طور پر 21 جولائی تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے دوران مختلف مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے بعد حکومت نے کمیٹی کے مطالبات کے حل کے لیے مثبت پیش رفت اور عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
مذاکرات کی کامیابی کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت نے اعلان کیا کہ حکومت کی یقین دہانی کے پیش نظر فی الحال مظفرآباد کی جانب مارچ ملتوی کیا جا رہا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو کامیاب ہونے کا موقع دیا جا سکے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے 21 جولائی تک اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 22 جولائی سے دوبارہ مظفرآباد کی جانب مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں فوری طور پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے مذاکرات کی کامیابی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور احتجاجی قیادت باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا مستقل حل نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔