کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) پر آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران مبینہ دھونس، غنڈہ گردی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت ن لیگ کو زور زبردستی کے ذریعے انتخابات چرانے نہیں دے گی۔
اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے بدمعاشوں اور غنڈوں کو لگام دے، کیونکہ کشمیری عوام پرامن ہیں اور وہ کسی کو بھی انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ ہر شخص کو لالچ دے کر خریدا جا سکتا ہے، تاہم کشمیری عوام ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کو شہید کر کے اپنی “فاشسٹ روایت” برقرار رکھی ہے، جبکہ ن لیگ کے امیدواروں اور حامیوں کی جانب سے اسلحہ کے مبینہ آزادانہ استعمال کے باوجود الیکشن کمیشن کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی ممکنہ شکست دیکھ کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور 2014 کی طرح آزاد کشمیر میں “خیراتی مینڈیٹ” حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “فارم 47 کی پیداوار” ن لیگ آزاد کشمیر کا پرامن ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کشمیری عوام ان کے دوہرے معیار اور سیاسی حربوں سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام امیدواروں کے لیے یکساں اور شفاف انتخابی ماحول یقینی بنایا جائے۔
شرجیل انعام میمن نے خبردار کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کان کھول کر سن لے، پاکستان پیپلز پارٹی اور کشمیری عوام کسی صورت آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو خراب نہیں ہونے دیں گے اور عوام کے ووٹ کے تقدس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔