قائم علی شاہ کی بیٹی کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 سالہ تقرری، پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی پر سوالات

کراچی: سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل مزید تین برس کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ 12 اگست کو متوقع تھی جبکہ ان کی تین سالہ تقرری کے لیے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے باقاعدہ ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

سرکاری ہدایت میں 5 اگست کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کابینہ نے وسیع تر عوامی مفاد، خصوصی طبی خدمات کے تسلسل، اکیڈمک لیڈرشپ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کرنے کی ہدایت کی۔

تاہم ہدایت کے اگلے ہی حصے میں ’’غور کرنے‘‘ کی عبارت عملی طور پر باقاعدہ تقرری کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ وائس چانسلر کو ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری کے سلسلے میں فوری ضروری کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔

ہدایت میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے پر بلا تاخیر اور من و عن عملدرآمد کیا جائے جبکہ کارروائی کی رپورٹ بھی ترجیحی بنیادوں پر محکمہ جامعات و بورڈز کو فراہم کی جائے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نوٹیفکیشن کیا کہتا ہے؟

ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کے لیے بنیاد بنائے گئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کے متن سے بھی اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو 65 سال کی عمر تک ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات خالصتاً کنٹریکٹ بنیادوں پر حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔

تاہم اسی نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اجازت ’’enabling in nature‘‘ ہے، یعنی اس کا مقصد متعلقہ اداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے اور اسے کسی یونیورسٹی یا ادارے پر لازمی یا پابند کرنے والا حکم تصور نہیں کیا جائے گا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کی پالیسی کے مطابق متعلقہ ادارہ اپنی ضرورت، دستیاب وسائل، قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ پر تقرری سے انہیں مستقل تقرری، سنیارٹی یا ملازمت میں مستقل انضمام کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی دوبارہ تقرری سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی، کیریئر پروگریشن یا متعلقہ کیڈر اسٹرکچر متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

مخصوص نام کے لیے کابینہ کی ہدایت کیوں؟

پی ایم اینڈ ڈی سی کا 19 مئی کا نوٹیفکیشن کسی مخصوص فرد کی تقرری کا حکم نہیں دیتا بلکہ سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ایک عمومی پالیسی کے تحت ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اسی تناظر میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جب ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ متعلقہ یونیورسٹی پر چھوڑا گیا تھا تو ڈاکٹر نگہت شاہ کی تقرری کا مخصوص معاملہ صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں پیش کیا گیا؟

مزید سوال یہ بھی ہے کہ کابینہ کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو کسی مخصوص فرد کی تین سالہ تقرری کے لیے فوری کارروائی اور اس پر ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کیوں کی گئی؟

یہ سوال بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن ریٹائرڈ فیکلٹی کے لیے عمومی پالیسی فراہم کرتا ہے، تاہم سندھ حکومت کی ہدایت میں ایک مخصوص فیکلٹی ممبر کا نام شامل کرکے تقرری کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

سنیارٹی متاثر ہونے کا خدشہ

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کی تین سالہ تقرری سے جے ایس ایم یو میں بعض ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سنیارٹی اور ترقی کے معاملات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

جن فیکلٹی ارکان کی سنیارٹی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ان میں ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان شامل ہیں۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی دوبارہ تعیناتی کا انتظام جونیئر فیکلٹی کی ترقی اور کیریئر پروگریشن کے امکانات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔

یوں ایک طرف پی ایم اینڈ ڈی سی کی پالیسی متعلقہ ادارے کو ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب جے ایس ایم یو میں ایک مخصوص ریٹائرڈ ہونے والی پروفیسر کی تین سالہ تقرری کے لیے کابینہ کی ہدایت نے تقرری کے طریقہ کار، سنیارٹی اور ادارہ جاتی ضرورت سے متعلق متعدد سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

اب معاملہ صرف یہ نہیں کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کی جاسکتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی زیر بحث ہے کہ اس عمومی پالیسی کو ایک مخصوص فرد کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل تین سالہ تقرری کے لیے کس طریقے سے استعمال کیا گیا اور اس عمل میں یونیورسٹی کے موجودہ فیکلٹی ارکان کے ترقی و سنیارٹی کے حقوق کا کس حد تک تحفظ کیا گیا۔

Related posts

بحیرہ احمر میں حوثیوں کا تجارتی جہاز پر حملہ، 3 پاکستانی جاں بحق، ایک زخمی

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا