اسلام آباد: بحیرہ احمر میں باب المندب کے قریب تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ پاکستان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن واپس لانے اور زخمی کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، تجارتی جہاز پر اس نوعیت کے حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ بحری سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے بھی تشویش ناک ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ پاکستانی حکام حملے میں متاثر ہونے والے شہریوں سے متعلق مزید معلومات بھی حاصل کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھی باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حملے کے باعث بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ حکومت پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کے اصول کی حمایت کرتا ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت اور سپلائی چین کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
حکام کے مطابق پاکستانی سفارتی مشن متاثرہ شہریوں اور ان کے اہلخانہ سے رابطے میں ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت، میتوں کی منتقلی اور زخمی پاکستانی کی صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ حکام سے حاصل کی جا رہی ہیں۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے باعث خطے میں بحری سلامتی پہلے ہی ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور یہاں کشیدگی سے بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بحری راستوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔