بلوچستان میں بی این پی کے دھرنے کے قریب خودکش دھماکا، اختر مینگل سمیت تمام شرکا محفوظ رہے

ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے لک پاس خودکش دھماکے کے مقام سے قریب بلوچستان نیشنل پارٹی کا دھرنا جاری تھا، دھماکے مین سردار اختر مینگل اور بی این پی کی تمام سیاسی قیادت اور شرکاء محفوظ ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان نے بتایا کہ حکومت گزشتہ رات سے بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں، بی این پی کے وفد کی گزشتہ رات انتظامیہ سے ملاقات ہوئی، آج حکومتی وفد نےسردار اختر مینگل سے ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔

شاہد رند نے بتایا کہ حکومتی ٹیم بی این پی کے وفد سے ملاقات کے لیے جا رہی تھی کہ افسوسناک واقعہ پیش آگیا، دھماکے میں سردار اختر مینگل اور بی این پی کی قیادت سمیت تمام شرکا محفوظ رہے، بلوچستان حکومت واقعے کی مکمل چھان بین کررہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دشمن صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اس لیے سردار اختر مینگل اور ان کی جماعت سے اپیل ہے کہ حکومت سے تعاون کریں، صوبائی حکومت ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے اور ڈائیلاگ کر بھی رہی ہے، سردار اختر مینگل کی جماعت نے بھی مثبت جواب دیا تھا، بات چیت سے صورتحال بہتر بنانے میں مدد کریں، امید ہے کہ بہتر راستہ نکلے گا۔

دوسری جانب سردار اختر مینگل کا لک پاس دھرنے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا دھرنا جاری رہے گا، راستے کھلے ملے تو دھرنا کوئٹہ میں ہو گا، ہم ایسے حالات سے گزر چکے ہیں، حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

Related posts

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار