میلہ چراغاں کا تیسرا روز ثقافت، رقص و ادب اور عوامی جوش کا حسین امتزاج

میلہ چراغاں کا تیسرا روز ثقافت، رقص و ادب اور عوامی جوش کا حسین امتزاج میلہ چراغاں 2025 اپنے تیسرے روز بھی اپنی پوری آب و تاب سے جاری رہا

شالیمار باغ کی فضائیں ایک بار پھر صوفیانہ خوشبو، لوک رنگوں اور عوامی جوش و خروش سے مہک اٹھیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے مختلف حصوں میں جاری سرگرمیوں میں شرکت کی اور اپنی ثقافت سے محبت کا بھرپور اظہار کیا۔
تیسرے دن کی ادبی سرگرمیاں بھی شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز رہیں۔ اس دن کی ابتدائی ادبی سرگرمی "بول چال دا سر نامہ” تھی جس میں شاہد نیاز خان اور تیمور ممتاز صاحب نے شاہ حسین کے شعار پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کے بعد ڈھولی ضیغم عباس نے ڈھول کی پرفارمنس دی۔ادبی سرگرمیوں کا اختتام پنجابی مشاعرے اور فلسفیوں اور محققین کی بیٹھک سے ہوا جس میں شاہ حسین کی حیات اور کلام پر بحث ہوئی شالیمار باغ پہلے تخت پر جاری رہنے والی صوفی و لوک موسیقی کی محفلوں میں لیاقت پارکوی اور چاپ گروپ (مست قلندر ڈیرہ)، ، جبکہ تاج مستانی اور شوکت فقیر نے اپنے مخصوص انداز سے روحانی فضا قائم کی۔ دوسرے تخت پر فنکاروں نے دن بھر حاضرین کو مشغول رکھا، جن میں خواجہ غلام فرید اور مادھو لال حسین کے دربار سے منسلک مشہور فنکار شامل تھے۔

Related posts

سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا