پختونخوا: ادویات کی خریداری میں خورد برد،سابق ڈی جی صحت سمیت 10اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا آغاز

خیبرپختونخوا میں نگران دور میں دوائیوں کی خریداری میں خورد برد کے الزام میں محکمہ صحت کے سابق ڈی جی سمیت 10 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے صوبے میں نگران دور حکومت میں دوائیوں کی خریداری میں خورد برد کے معاملے میں محکمہ صحت کے سابق ڈی جی سمیت 10 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کے اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ۔ دستاویزات کے مطابق تمام اہلکاروں کو 10 سے 14 دن کے اندر جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔

جواب نہ ملنے پراہلکاروں کے خلاف ثبوت کے طوریکطرفہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔ان افسران کے خلاف بدعنوانی اور بد انتظامی کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔

معاون خصوصی انسداد بدعنوانی مصدق عباسی کی سربراہی میں کمیٹی نے تحقیقات کیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر وزیراعلیٰ نے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

نوٹس میں ان اہلکاروں سے 17 ، 17 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ  نگران دورمیں دوائیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب سے زیادہ کی رقم جاری ہوئی اور ادویہ ساز کمپنیوں نے ایک ارب 20 کروڑ روپے وصول کرنے کے باوجود دوائیاں نہیں دیں اور  حکومت کو صرف 20 کروڑ روپے کی ادویات فراہم کی گئیں۔

دوسری جانب مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے جیو نیوز کو بتایا کہ کرپشن کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ان اہلکاروں کو نہ صرف ملازمت سے فارغ کیا جائے گا بلکہ ان سے وصولی بھی کی جائے گی۔

Related posts

راولا کوٹ میں مسلح حملہ آور مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں

آزاد کشمیر کے انتخابات میں عوام نے ترقی، کارکردگی اور جدت کو ووٹ دیا,عظمی بخاری

پاکستان تحریک انصاف میں مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کے قیام کا منصوبہ