رواں برس مون سون سیزن کے دوران ملک میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی

اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رواں برس مون سون سیزن کے دوران ملک میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور صوبائی اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، جس سے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، شہری سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اس موقع پر قومی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی، بروقت وارننگ اور ریسکیو اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے اور اس کے نتیجے میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر قائم ایمرجنسی رسپانس کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ابتدائی موسمی جائزوں کے مطابق بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں، جبکہ میدانی علاقوں میں نسبتاً کم بارشوں کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر خطے کے لیے الگ حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ارلی وارننگ سسٹم کو مؤثر بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔ ان کے مطابق بروقت موسمی انتباہات، عوامی آگاہی مہم اور پیشگی حفاظتی اقدامات کے باعث حالیہ برسوں میں ممکنہ نقصانات میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابوں کے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف انفراسٹرکچر کی بہتری ہی نہیں بلکہ عوامی شعور، مؤثر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔

بریفنگ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ، جدید پیشگوئی کے نظام، بروقت ریسکیو اقدامات اور عوام کو مسلسل آگاہ رکھنے کی حکمت عملی آئندہ دنوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

Related posts

رواں برس مون سون سیزن کے دوران ملک میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کی سندھ بھر میں مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار